وزیراعظم کا پٹرول کی قیمت میں کمی کا اعلان
محمد شہزاد بھٹی
سیاست کے تپتے صحرا میں عوام کے لیے ریلیف کا اعلان کسی ٹھنڈی ہوا کے جھونکے سے کم نہیں ہوتا اور جمعہ کی رات گئے وزیراعظم شہباز شریف کا پٹرول کی قیمتوں میں کمی کا فیصلہ محض اعداد و شمار کا الٹ پھیر نہیں بلکہ معاشی گھٹن میں سسکتی عوام کے لیے تازہ ہوا کا ایک سانس ہے جس پر وہ بلاشبہ عوامی سطح پر بھرپور ستائش کے مستحق ہیں کیونکہ اس ریلیف کے پیچھے وہ عوامی وژن کارفرما ہے جس کے مطابق عوام اب مزید معاشی بوجھ اٹھانے کی سکت نہیں رکھتی اور اسی عوامی ہمدردی کے نتیجے میں وزیراعظم نے آئی ایم ایف کے سخت پروگرام کے باوجود پٹرول کی قیمت میں 80 روپے فی لیٹر کی غیر معمولی کمی کا اعلان کیا جو محض ایک انتظامی حکم نہیں بلکہ اس عوامی سوچ اور سیاسی جرات کا ثبوت ہے جو ہمیشہ سے ملک و قوم کی بہتری کے لیے ضروری رہی ہے۔ پٹرول کی نئی قیمت 378 روپے فی لیٹر مقرر ہونا اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ وزیراعظم اب اپنی قیادت کے وژن کے مطابق حکومتی ترجیحات کا رخ براہِ راست غریب طبقے کی جانب موڑنے میں کامیاب ہوئے ہیں اور ساتھ ہی وفاقی کابینہ کی 6 ماہ کی تنخواہوں میں کٹوتی کا اعلان کر کے اس دیرینہ عوامی مطالبے کی عملی تائید کی ہے کہ قربانی صرف غریب ہی کیوں دے؟ یہ سچ ہے کہ 378 روپے کی قیمت بھی ایک عام آدمی کے لیے آسان نہیں لیکن ہمیں اس کے پیچھے چھپے عالمی عوامل کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کیونکہ دنیا اس وقت بین الاقوامی تنازعات کی لپیٹ میں ہے جس کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں مسلسل اتار چڑھاؤ کا شکار ہیں اور ان سنگین حالات میں جہاں بڑی معیشتیں بھی لڑکھڑا رہی ہیں، عوام کو 80 روپے کا بڑا ریلیف فراہم کرنا قابل ستائش ہے جسے عوامی حلقوں میں خوب سراہا جا رہا ہے تاہم جہاں نیت مخلصانہ ہے وہاں غریب بائیک سواروں کے لیے 100 روپے کے براہِ راست ریلیف کے حصول کے لیے رکھی گئی کڑی شرائط اس بڑے ریلیف کے ثمرات کو ماند کر سکتی ہیں کیونکہ نادرا، ایکسائز، پولیس کی تصدیق اور لائسنس جیسی پیچیدہ شرائط دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ ایک غریب دیہاڑی دار مزدور 100 روپے بچانے کے لیے اپنا کام چھوڑ کر کئی روز تک دفاتر کے چکر کاٹتا رہے گا لہٰذا اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اس وژن کو نچلی سطح تک پہنچانے کے لیے بیوروکریسی کے پیچیدہ جال اور کڑی شرائط کو ختم کیا جائے تاکہ ایک دیہاڑی دار مزدور کو اپنے حق کے لیے دفاتر کے چکر نہ کاٹنے پڑیں کیونکہ قیادت کا اپنی مراعات کم کرنا اور عالمی مارکیٹ کے دباؤ کے باوجود عوام کو ریلیف دینا اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ اگر نیت مخلص ہو تو مشکل سے مشکل حالات میں بھی بہتری ممکن ہے اور اگر اسی طرح اشرافیہ کی مراعات میں مزید کٹوتی کر کے وہ فنڈز بغیر کسی مشکل شرط کے عوامی فلاح پر لگائے جائیں تو وہ دن دور نہیں جب ملک معاشی بحران کی دلدل سے مکمل باہر نکل آئے گا۔ اللہ تعالیٰ ہمارے ملک پر رحم فرمائے، قیادت کو مزید ایسے ہی عوامی فیصلے کرنے کی توفیق دے اور پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کرے۔ آمین


