شہید لاریجانی اور کانٹ
ڈاکٹر ذاکر حسین ذاکرؔ
نہ جانے کیوں مجھے ایران پر مسلط کردہ جنگ میں ایران کے سیکورٹی (سلامتی کونسل) سربراہ جناب علی اکبر لاریجانی کی شہادت سب سے بڑا نقصان محسوس ہو رہا ہے۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ایرن کے سپریم لیڈر حضرت علی خامنائی کی شھادت نہ صرف ایران بلکہ امت مسلمہ کے لئے ایک سانحہ ہے۔ لیکن مجھے آقائے خامنائی کی شھادت پر رشک آیا کیونکہ وہ مولا حسین علیہ السلام کی طرح قیام اور انکار کے ایک مینارۂ نور کے طور پر اپنے طبعی عمر کے آخری حصے میں شھادت سے ہمکنار ہوئے۔ مگر لاریجانی کی شھادت پر بے حد افسوس اس لئے ہوا کیونکہ حضرت خامنائی جیسی قیادت کے پیچھے لاریجانی جیسے اعلیٰ تعلیم یافتہ، سنجیدہ، بے باک، تجربہ کار فلسفیانہ اندازِ فکر اور سائنسی دماغ کام کر رہے تھے۔ ان کی شھادت یقیناً ایران کے لیے ایک نا قابل تلافی نقصان ہے۔
اپنی شھادت سے ایک دن قبل انھوں نے سوشل میڈیا ٹیوٹر ایکس پر امریکی حکومت کی طرف سے ان کے سر کی قیمت لگانے کی خبر کے ساتھ امام حسین علیہ السلام کا معروف جملہ عربی متن میں ہی لکھا تھا کہ ایک خود دار انسان کے لیے ظالموں کے ساتھ زندہ رہنا موت سے بد تر ہے اور عزت کے ساتھ موت زندگی سے زیادہ خوشگوار ہے۔
ڈاکٹر علی لاریجانی کو اگر چہ ہم نے اسرائیل اور امریکہ کی ایران پر جنگ مسلط کرنے کے بعد جانا۔ ان کی خوددار سفارتی لہجہ ، علمی وقار اور سنجیدگی، مجاہدانہ بے باکی اور مریدانہ عقیدت نے جلد ہی متاثر کیا۔ ان کی تعلیم کے بارے میں پڑھ کر مزید دلچسپی بڑھی کہ انہوں نے فلسفے میں پی ایچ ڈی کیا تھا۔ اور ٹیکنالوجی یونیورسٹی کے گریجویٹ تھے۔ یوں کچھ حوالوں سے میرا اپنا ذہنی میلان بھی ملتے جلتے تھے۔ مزید بر آں جب یہ معلوم ہوا کہ انہوں نے جرمن فلاسفر کانٹ کی افکار و نظریات پر اپنا پی ایچ ڈی مقالہ لکھا تھا یوں وہ بیک وقت ایک سائنسدان اور فلاسفر دونوں تھے ۔ ایران کی ایٹمی توانائی شعبے کے سربراہ بھی رہے تھے۔ ان باتوں کا پتہ چلنے کے بعد میری دلچسپی دو چند ہوگئی اور مجھے گورنمنٹ کالج لاہور میں ایم اے فلاسفی کے دوران پروفیسر شاہد حسین کے کانٹ سے متعلق لیکچر یاد آنا شروع ہوگیا۔
میں نے ایمانویل کانٹ کو ان کے فلسفہ اخلاق کے حوالے سے درساً پڑھا تھا۔ اور کانٹ کا ایک جملہ ابھی تک بغیر کتاب دیکھے یاد ہے۔ پروفیسر شاہد حسین کانٹ کے اس معروف قول کو کچھ بیان کرتا تھا
Always act on that maxim which you can built to be a universal law.
ہمیشہ اس منہاج پر عمل کرو جسے آپ ایک کائناتی قانون یا اصول بنا سکو۔
کانٹ کا اصل جملہ کچھ یوں تھا:
Act only according to that maxim whereby you can, at the same time, will that it should become a universal law.
اپنے اعمال یاافعال کو اس (اخلاقی) منہاج پر بجا لاؤ جہاں آپ بیک وقت (عمل کے ساتھ) یہ خواہش کر سکو کہ یہ (فعل یا عمل ) ایک عالمی یا کائناتی قانون بن جائے۔
ایران اگر آج تک دشمن کے سامنے جھُکا نہیں تو اس لیے کہ وہاں پر لاریجانی جیسے اعلی ٰ تعلیم یافتہ مفکر قسم کے لوگ کی ہاتھ میں ریاست کی بھاگ دوڑ ہے۔ تازہ ترین اطلاع یہ ہے کہ اب ان کی جگہ ایک اور پی ایچ ڈی ڈاکٹر پروفیسر ڈاکٹر سعید جلیلی کو سیکورٹی سربراہ بنا یا گیا ہے جس نے سیاسیات میں پی ایچ ڈی کیا ہواہے اور وہ بھی ایٹمی توانائی شعبے کے سربراہ رہ چکے ہیں۔ یوں طبعی علوم اور سماجی علوم کے ماہرین ریاست و حکومت کی اہم عہدوں پر فائز ہیں۔ شھید علی لاریجانی کا بیٹا بھی پی ایچ ڈی ڈاکٹر اور سائنسدان تھے جو اپنے باپ کے ساتھ شھید ہوئے۔
مجھے لگتا ہے کہ علی لاریجانی نے واقعی اس منہاج پر زندگی گزارا اور فرائض منصبی ادا کئے کہ وہ خواہش کر سکے کہ اس طرح کی زندگی ایک عالمی معیار اور قانون بن جائے ۔ آپ اپنے افعال و کردار کو صرف اس وقت عالمی یا کائناتی معیار یا قانون کی سطح پر دیکھ سکتے ہیں جب آپ کو اس نہج کی معیار کا علم ہو، خود اس قابل ہو کہ ایسے معیار ، منہاج اور اصولوں پر عمل پیرا ہو سکے اور ایسے معیارات سے واقف ہوں جو اعلی ترین انسانی اقدار قرار دئیے جانے کے لائق ہیں۔ صیہونیت اگر خوفزدہ ہیں تو ایسے اہل علم و عمل سے ہیں نہ کہ مشینوں اور پیچیدہ ٹیکنالوجی سے ۔ کیونکہ اس جنگ میں ہم نے دیکھا کہ سب سے قیمتی اور پیچیدہ ترین ٹیکنالوجی والی بحری بیڑے ابراہیم لنکن کا بیڑہ غرق ہو چکا ہے اور ایک لنگڑا پہاڑ کی طرح بے خودی میں سمندر میں تیر رہا ہے۔ اگر پاکستان میں بھی صاحبان اقتدار اس طرح کے اعلی تعلیم یافتہ ، سنجیدہ، پر خلوص بے غرض اور بے باک ، فلسفیانہ فکر والے افراد پر مشتمل ہو جائے تو پاکستان ہوشیار سفارتکاری کے علاوہ ایران کی طرح جرأت انکار کے ساتھ جینے کا سلیقہ بھی سیکھ لے گا۔



