اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)اسلام آباد کے مضافاتی علاقے ترلائی میں واقع مسجد/امام بارگاہ خدیجہ الکبریٰؑ میں جمعہ کی نماز کے دوران ہونے والے خودکش دھماکے کے نتیجے میں ابتدائی اطلاعات کے مطابق 31 افراد شہید جبکہ 169 زخمی ہو گئے ہیں۔ دھماکہ اس وقت ہوا جب بڑی تعداد میں نمازی عبادت میں مصروف تھے، جس کے باعث جانی نقصان میں اضافہ ہوا۔واقعے کے فوراً بعد ریسکیو اور سیکیورٹی ادارے جائے وقوعہ پر پہنچ گئے، زخمیوں کو قریبی ہسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا جبکہ علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔ ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے اور متعدد زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔اس افسوسناک واقعے پر انٹرنیشنل ہیومن رائٹس موومنٹ گلگت بلتستان نے گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے اس بزدلانہ دہشت گردی کی شدید مذمت کی ہے۔ تنظیم کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ عبادت گاہوں کو نشانہ بنانا انسانیت، امن، مذہبی آزادی اور بنیادی انسانی حقوق پر کھلا حملہ ہے، ایسے دل دہلا دینے والے واقعات کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے ناقابلِ قبول ہیں۔انٹرنیشنل ہیومن رائٹس موومنٹ گلگت بلتستان نے حکومتِ پاکستان اور سیکیورٹی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف مؤثر اور ٹھوس اقدامات کیے جائیں، عبادت گاہوں کی سیکیورٹی کو مزید سخت بنایا جائے اور متاثرہ خاندانوں کو فوری انصاف اور مکمل معاونت فراہم کی جائے۔بیان میں مزید کہا گیا کہ اس سانحے نے پورے ملک کی فضا کو سوگوار بنا دیا ہے۔ تنظیم نے مختلف سماجی، مذہبی اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس مشکل گھڑی میں شہداء کے لواحقین سے اظہارِ تعزیت کریں، زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعائیں کریں اور ہر ممکن مدد فراہم کریں۔
15






