وارسا:امریکا نے 2026 کے لئے امن کا نوبل انعام صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو دلوانے کی کوششوں کی حمایت نہ کرنے سے متعلق بیان پر پولینڈ کی پارلیمنٹ اور اس کے سپیکر سے تعلقات محدود کر لئے ہیں۔ العربیہ اردو کے مطابق یہ بات پولینڈ میں امریکی سفیر ٹام روز نے گزشتہ روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہی ۔ انہوں نے کہا کہ پولینڈ کی پارلیمنٹ کے سپیکرولود زیمیئرز کزار زیسٹی نے صدر ٹرمپ کے بارے میں اشتعال انگیز اور توہین آمیز خیالات کا اظہا کر کے وزیر اعظم پولینڈڈونلڈ ٹسک کے ساتھ امریکی تعلقات میں رکاوٹ پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔
انہوں نے کہا ہم کسی کو ایسا کرنے کی اجازت نہیں دیتے کہ وہ صدر ٹرمپ کی بے عزتی کرے کیونکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پولینڈ اور اس کے عوام کےلیے بہت کچھ کیا ہے۔ امریکی سفیر نے کہا کہ یورپی یونین نوازحکومت کے پارلیمانی سپیکر نے یورپ کے سب سے اہم اتحادی کے بارے میں جو انداز اختیار کیا ہے وہ صدر ٹرمپ کے لیے انتہائی غیر موزوں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ امریکا ان کے ساتھ مزید کوئی رابطہ نہیں رکھے گا۔ اس عدم رابطے کا آغاز فوری طور پر ہو گا۔امریکی سفیر کے بیان کے جواب میں پولش سپیکر نے بھی ایکس پر کہا ہے کہ انہیں امریکی سفیر کے بیان پر افسوس ہے مگروہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بارے میں اپنے اصولی موقف پر قائم ہیں۔ واضح رہے کہ پولش سپیکر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر الزام لگائے اور انہیں امن کا نوبل انعام دلوانے میں مدد کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ پولش سپیکر نے کہا تھا کہ وہ امریکی کانگریس کے سپیکر اور اسرائیلی کنیسٹ کے سپیکر کی طرف سے 2026کے لئے امن کا نوبل انعام صدر ٹرمپ کو دلوانے کی کوششوں کی حمایت نہیں کریں گے۔
پولش سپیکر نے امن انعام کے لئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت نہ کرنے کا کہتے ہوئے کہا کہ میرے خیال میں تو ٹرمپ عالمی سطح پر صورت حال کو خراب اور اداروں کو کمزور کر رہے ہیں نیز طاقت کے استعمال کی پالیسی کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ پولش پارلیمنٹ کے سپیکر ولودڈزیمیئرز کزار زیسٹی بائیں بازو سے تعلق رکھتے ہیں اور پولش حکومت کے ایک جونیئر اتحادی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں نہیں سمجھتا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ امن انعام کے اہل ہیں اس لیے میں ان کی حمایت نہیں کروں گا۔
10






