گلگت،سکردو، روندو، غذر سمت تمام اضلاع میں یومِ یکجہتی کشمیر کے موقع پر ضلعی انتظامیہ کی زیرِ اہتمام ریلیاں اور تقریبات،سرکاری افسران، طلبہ، سول سوسائٹی اور عوام کی بڑی تعداد نے بھرپور شرکت کی
کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے حق میں نعرے،مقررین کاکشمیری عوام کو ان کا بنیادی حق دلانے کے لیے مؤثر کردار ادا کرنے پر زور،عالمی برادری سے مقبوضہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی نوٹس لینے کا مطالبہ
گلگت بلتستان (نمائندگان بانگ سحر)ملک بھر کی طرح گلگت بلتستان کے تمام اضلاع میں یو یکجہتی کشمیر شایان شان طریقے سے منا یا گیاضلعی انتظامیہ گلگت کی جانب سے 5 فروری یومِ یکجہتی کشمیر کے موقع پر گورنمنٹ ہائی اسکول نمبر 1 گلگت میں ایک باوقار اور پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب میں صوبائی وزیر داخلہ ساجد علی بیگ، صوبائی وزیر جنگلات اشرف صدا، صوبائی وزیر خوراک مہرداد، سید عادل شاہ، اساتذہ، سرکاری افسران اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ کشمیری عوام گزشتہ کئی دہائیوں سے بھارتی مظالم کا سامنا کر رہے ہیں، مگر ان کی جدوجہد آزادی اور قربانیاں تاریخ کا روشن باب ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور گلگت بلتستان کے عوام کشمیری بھائیوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور ان کی جائز جدوجہد کی ہر سطح پر حمایت جاری رکھیں گے۔مقررین نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کشمیری عوام کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کیا جائے گا اور عالمی برادری کو مقبوضہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے آگاہ کرتے رہیں گے۔تقریب کے اختتام پر گورنمنٹ ہائی اسکول نمبر 1 گلگت سے اتحاد چوک تک یکجہتی کشمیر کے اظہار کے لیے ایک پرامن ریلی نکالی گئی۔ ریلی کے شرکاء نے کشمیری عوام کے حق میں نعرے لگائے اور مظلوم کشمیریوں سے بھرپور یکجہتی کا اظہار کیا۔ضلعی انتظامیہ گلگت کی جانب سے اس موقع پر واضح کیا گیا کہ کشمیری عوام کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت ہر فورم پر جاری رکھی جائے گی۔سکردو سے ہمارے نمائندئے مہدی اکمل کی روپورٹ کے مطابق یومِ یکجہتی کشمیر کے موقع پر ضلعی انتظامیہ سکردو کے زیرِ اہتمام ایک پروقار اور شایانِ شان تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقع پر کشمیری عوام سے اظہارِ یکجہتی کے لیے ایک بڑی ریلی بھی نکالی گئی، جس میں مختلف سرکاری محکموں کے افسران، طلبہ اور شہریوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ریلی کی قیادت کمشنر بلتستان ڈپٹی کمشنر سکردو حمزہ مراد اور ایس ایس پی سکردو حسن علی تحصیلدار ہیڈ کواٹر محفوظ علی نے کی، جبکہ تمام محکموں کے سربراہان بھی شریک ہوئے۔ شرکاء نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے حق میں نعرے درج تھے۔ ریلی کے دوران“کشمیر بنے گا پاکستان”کے فلک شگاف نعرے لگائے گئے۔تقریب میں طلبہ نے ملی نغمے پیش کیے اور کشمیری عوام کے ساتھ بھرپور اظہارِ یکجہتی کیا۔ مقررین نے اپنے خطابات میں کہا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور پاکستانی قوم اپنے کشمیری بھائیوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑے گی۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ کشمیری عوام کو ان کا بنیادی حقِ خودارادیت دلانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔آخر میں ملکی سلامتی، استحکام اور کشمیری شہداء کے درجات کی بلندی کے لیے خصوصی دعا بھی کی گئی۔ پروگرام پُرامن ماحول میں اختتام پذیر ہوا۔مہدی اکمل کی رپورٹ کے مطابق روندو میں یومِ یکجہتی کشمیر کے موقع پر اسسٹنٹ کمشنر روندو کے دفتر میں ایک پروقار، منظم اور پُراثر تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس کا مقصد کشمیری عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور ان کی حقِ خودارادیت کی منصفانہ جدوجہد کی بھرپور حمایت کا اعادہ کرنا تھا۔ اس تقریب میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر روندو، اسسٹنٹ کمشنر روندو، روندو کے تمام ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹس، شہداء پاکستان کے معزز ورثاء، معززین علاقہ، غازیان روندو، بازار کمیٹی کے ممبران، عمائدین علاقہ اور دیگر سرکردہ شخصیات نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔تقریب کا باقاعدہ آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کی سعادت مولانا محمد صادق، امام جمعہ والجماعت تلو نے حاصل کی۔ تلاوت کے بعد مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کشمیری عوام پر ڈھائے جانے والے مظالم کی شدید مذمت کی اور اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان کا بچہ بچہ اپنے کشمیری بھائیوں کے شانہ بشانہ کھڑا ہے۔ اس موقع پر ایس ایم مبارک، غازی کشمیر صوبیدار (ریٹائرڈ) خان بہادر، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر روندو اور اسسٹنٹ کمشنر روندو نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے شہداء کشمیر کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا اور کشمیری عوام کی لازوال قربانیوں کو سلام پیش کیا۔مقررین نے کہا کہ یومِ یکجہتی کشمیر منانے کا مقصد دنیا کو یہ واضح پیغام دینا ہے کہ مسئلہ کشمیر ایک بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازعہ مسئلہ ہے اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کو ان کا حقِ خودارادیت دیا جانا ناگزیر ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کشمیری عوام کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت ہر سطح پر جاری رکھی جائے گی۔تقریب کے اختتام پر اسسٹنٹ کمشنر آفس روندو سے یومِ یکجہتی کشمیر کے حوالے سے ایک عظیم الشان ریلی نکالی گئی، جس میں سرکاری افسران، سول سوسائٹی، طلباء اور عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ ریلی مختلف راستوں سے ہوتی ہوئی ہائیر سیکنڈری سکول تھوار پہنچی، جہاں ایک جلسہ عام منعقد کیا گیا۔ جلسے کے دوران طلباء کے مابین تقریری مقابلے اور نعتیہ مقابلے منعقد ہوئے، جبکہ شرکاء نے پرجوش نعرہ بازی کے ذریعے کشمیری عوام کے ساتھ اپنی مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔ مقابلوں میں حصہ لینے والے طلباء و طالبات میں نقد انعامات بھی تقسیم کیے گئے۔یہ تقریب اور ریلی اس بات کا واضح ثبوت تھیں کہ روندو کے عوام کشمیری بھائیوں کے دکھ درد میں برابر کے شریک ہیں اور ان کی جائز جدوجہد آزادی کی حمایت ہر فورم پر جاری رکھیں گے۔ آخر میں جلسہ ملکی سلامتی، استحکام اور کشمیری عوام کی آزادی کے لیے خصوصی دعا کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔غذر سے ہمارے نمائندے کی رپورٹ کے مطابق ضلع غذر میں یومِ یکجہتی کشمیر بھرپور قومی جذبے، جوش و خروش اور یکجہتی کے ساتھ منایا گیا۔ اس سلسلے میں مرکزی ریلی سی اینڈ ڈبلیو ریسٹ ہاؤس سے گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول تک نکالی گئی۔ریلی میں مختلف محکموں کے سربراہان، سول سوسائٹی، طلبہ، تاجر برادری اور عوام نے بڑی تعداد میں شرکت کی، جبکہ ریلی کی قیادت ڈپٹی کمشنر/ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ غذر حبیب الرحمن نے کی۔پانچ فروری کو یومِ یکجہتی کشمیر کے موقع پر ضلع بھر کے مختلف علاقوں میں ریلیاں، واکس اور خصوصی تقریبات کا انعقاد کیا گیا، جن میں سرکاری و غیر سرکاری اداروں، سیاسی و سماجی تنظیموں اور سول سوسائٹی کے نمائندگان نے بھرپور شرکت کی۔ریلی کے شرکاء نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر کشمیری عوام سے اظہارِ یکجہتی اور بھارتی مظالم کے خلاف نعرے درج تھے۔ شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان کشمیری عوام کی جائز جدوجہدِ آزادی میں ہر محاذ پر ان کے ساتھ کھڑا ہے۔اس موقع پر مقررین نے اپنے خطاب میں کشمیری عوام سے بھرپور یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارت اقوامِ متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ کشمیری عوام کو ان کا مسلمہ اور بنیادی حق، یعنی حقِ خودارادیت دیا جانا عالمی برادری کی ذمہ داری ہے۔مقررین نے کہا کہ غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فورسز کی جانب سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں مسلسل جاری ہیں، جن پر عالمی ضمیر کی خاموشی لمحہ? فکریہ ہے۔شرکاء نے کشمیری عوام کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ سے مطالبہ کیا کہ مقبوضہ کشمیر میں آزاد اور منصفانہ رائے شماری کے فوری انعقاد کو یقینی بنایا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ عالمی برادری سے بھی اپیل کی گئی کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں کو روکنے کے لیے مؤثر اور عملی کردار ادا کرے۔آخر میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ پاکستان کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی مکمل حمایت جاری رکھے گا اور ان شاء اللہ کشمیری عوام کی جدوجہد ضرور رنگ لائے گی۔
واضح رہے کہ ضلع غذر کی چاروں تحصیلوں میں بھی یومِ یکجہتی کشمیر پورے جوش و جذبے اور قومی یکجہتی کے ساتھ منایا گیا۔گوپس سے ہمارے نمائندے کے مطابق یومِ یکجہتی کشمیر کے سلسلے میں ہائی اسکول گوپس سے مدینہ مارکیٹ گوپس تک ایک عظیم الشان ریلی نکالی گئی۔ اسسٹنٹ کمشنر گوپس/پھنڈر عرفان علی اور ایڈیشنل ایس پی گوپس/یاسین برکت اللّہ کی زیرِ نگرانی منعقد ہوئی۔ریلی کا مقصد کشمیری عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرنا اور ان کے حقِ خودارادیت کی حمایت کو اجاگر کرنا تھا۔ اس موقع پر مختلف سرکاری و غیر سرکاری اداروں کے نمائندگان، طلبہ، سماجی و سیاسی شخصیات اور شہریوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ شرکاء نے کشمیر کاز کے حق میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے اور پُرامن نعروں کے ذریعے اپنی وابستگی کا اظہار کیا۔ریلی شہر کے مرکزی بازار سے گزرتی ہوئی واپس ہائی اسکول گوپس پہنچی جہاں اس کا اختتام ہوا۔ بعد ازاں ایک تقریب کا بھی اہتمام کیا گیا جس میں مقررین نے کشمیری عوام کی جدوجہد اور قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا اور مسئلہ کشمیر کے پُرامن اور منصفانہ حل پر زور دیا۔کھرمنگ سے ہمارے نمایندے کے رپورٹ کے مطابق ضلعی انتظامیہ کھرمنگ نے 5 فروری 2026ء کو یومِ یکجہتی کشمیر پورے قومی جذبے اور جوش و خروش کے ساتھ مہدی آباد، ضلع کھرمنگ میں منایا۔اس سلسلے میں مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ غیر متزلزل یکجہتی کے اظہار کے لیے ایک یکجہتی واک کا اہتمام کیا گیا۔ یہ واک پاور ڈیپارٹمنٹ چوک، مین بازار مہدی آباد سے شروع ہو کر بوائز ہائر سیکنڈری اسکول (BHSS)، مہدی آباد پر اختتام پذیر ہوئی۔ شرکاء نے قومی پرچم، بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر کشمیری عوام سے یکجہتی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف نعرے درج تھے۔بوائز ہائر سیکنڈری اسکول مہدی آباد میں ایک مرکزی تقریب منعقد ہوئی جس میں مختلف محکموں کے سربراہان (HODs)، معززینِ علاقہ، اساتذہ، طلبہ اور سول سوسائٹی کے نمائندگان نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ پروگرام میں تقاریر شامل تھیں جن میں یومِ یکجہتی کشمیر کی اہمیت، کشمیری عوام کی قربانیوں اور پاکستان کی جانب سے ان کے جائز حقِ خودارادیت کے لیے اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت پر روشنی ڈالی گئی۔ڈپٹی کمشنر کھرمنگ نے تقریب میں بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ اپنے خطاب میں انہوں نے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ کھڑے رہنے کے عزم کا اعادہ کیا اور قومی معاملات کے حوالے سے نوجوان نسل میں شعور، اتحاد اور امن کی اہمیت پر زور دیا۔تقریب کے اختتام پر کشمیر کی آزادی اور خطے میں امن کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔ مجموعی طور پر ضلع کھرمنگ میں یومِ یکجہتی کشمیر کا انعقاد پُرامن اور کامیاب رہا، جو قومی اتحاد اور یکجہتی کی بھرپور عکاسی کرتا ہے۔استور سے ہمارے نمائندے رفیع اللہ افریدی کی رپورٹ کے مطابق مُلک بھر کی طرح ضلع استور میں بھی یوم یکجہتی کشمیر پورے ملی جذبے کے ساتھ منایا گیا. ضلعی انتظامیہ استور کے زیر اہتمام دن کی مناسبت سے ایک شاندار ریلی نکالی گئی.ریلی ڈپٹی کمشنر آفس استور سے شروع ہوئی اور علی المرتضیٰؑ چوک پہنچ کر اختتام پزیر ہوئی.ریلی میں محکمہ جات کے سربراہان, سیاسی وسماجی شخصیات, صحافی عمائدین علاقہ اور لوگوں کی ایک کثیر تعداد نے شرکت کی.ریلی میں شرکاء نے بینرز اور پلے کارڈ اٹھائے ہو? تھے جس میں قابض بھارت کے مظالم اور کشمیر پر ناجائز قبضے کے خلاف نعرے درج تھے. ریلی کے اختتام پر ایک شاندار احتجاجی جلسہ منعقد ہوا. جلسے سے خطاب کرتے ہو? ڈپٹی کمشنر استور محمد اویس عباسی نے کہا کہ مسلہ کشمیر ایک حل طلب مسلہ ہے جس سے اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روح کے مطابق حل کرنا ہوگا. انہوں نے کہا کہ مسلہ کشمیر کے حل کے بغیر خطے میں قیام امن ناممکن ہے. اس لیے لازم ہے کہ بھارت فوری اس اہم مسلے کا حل نکالے اور کشمریوں کو ان کا حق خود ارادیت دے تاکہ وہ اپنی مرضی کے مطابق اپنے مستقبل کا فیصلہ کرسکے.انہوں نے کہا کہ آج کا یہ دن منانے کا بنیادی مقصد بھی یہی ہے کہ قابض بھارت کا کشمیر پر ناجائز اور بین الاقوامی قوانین اور کشمیریوں کے بنیادی انسانی حقوق کی پامالی پر اجتجاج ریکارڈ کرانا ہے اور مظلوم کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کرنا ہے. اور پاکستان کا غیر متززل عزم کا اعادہ کرنا ہے. ڈپٹی کمشنر استور نے کہا کہ اس ٹھٹرتی ہوئی سردی اور برف میں اپنے گھروں سے باہر نکل کر ہم بھارت کو باور کرانا چاہتے ہیں کہ ہمارے دل کشمریوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں اور ہمارا ہر قسم کا تعاون کشمریوں کے ساتھ ہے.جلسہ سے امیر جماعت اسلامی حافظ عبدالباسط اور ایگزیکٹیو انجینئر محکمہ ورکس انعام اللہ نے بھی خطاب کیا اور بھارتی مظالم کی شدید الفاظ میں مزمت کی اور کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا.دن کی مناسبت سے استور شہر کے مختلف مقامات پر بینرز آویزاں کیے گئے تھے اور قومی اور کشمیری پرچم لہرا? گئے تھے۔گنگھچے سے ہمارے نمائندے کے مطابق ملک بھر کی طرح ضلع گنگچھے میں بھی 5 فروری یومِ یکجہتی کشمیر نہایت جوش و جذبے اور قومی ولولے کے ساتھ منایا گیا۔ اس دن کا مقصد مظلوم کشمیری عوام کے ساتھ بھرپور یکجہتی کا اظہار اور بھارتی مظالم کے خلاف آواز بلند کرنا تھا۔اس موقع پر ضلع گنگچھے کے ہیڈکوارٹر خپلو میں ایک عظیم الشان ریلی کا انعقاد کیا گیا، جس کی قیادت ڈپٹی کمشنر ضلع گنگچھے کپٹن (ر) اریب احمد مختار نے کی۔ ریلی گورنمنٹ ڈگری کالج خپلو سے شروع ہو کر قلم چوک پر اختتام پذیر ہوئی۔ریلی میں علماء کرام، سول سوسائٹی کے نمائندگان، مختلف سیاسی جماعتوں کے عہدیداران، سرکاری افسران، طلبہ اور عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ شرکاء نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر کشمیری عوام کے حق میں اور بھارتی مظالم کے خلاف نعرے درج تھے، جبکہ فضا کشمیر بنے گا پاکستان اور بھارتی مظالم نامنظور کے نعروں سے گونجتی رہی۔قلم چوک پر ریلی کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم کی بھرپور مذمت کی اور کہا کہ کشمیری عوام گزشتہ کئی دہائیوں سے حقِ خودارادیت کے لیے قربانیاں دے رہے ہیں۔ مقررین نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا فوری نوٹس لے اور کشمیری عوام کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ان کا جائز حق دلوانے میں اپنا کردار ادا کرے۔ڈپٹی کمشنر ضلع گنگچھے کپٹن (ر) اریب احمد مختار نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان کا ہر فرد مظلوم کشمیریوں کے ساتھ کھڑا ہے اور ان کی جدوجہد آزادی کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی اور آزادی کی صبح ضرور طلوع ہوگی۔تقریب کے اختتام پر کشمیری شہداء کے درجات کی بلندی اور مقبوضہ کشمیر کی جلد آزادی کے لیے خصوصی دعا بھی کی گئی۔






