44

گلگت،نگراں کابینہ اجلاس، تیز رفتار ترقیاتی سکیموں کے لیے 60 کروڑ کی منظوری

گلگت(بانگ سحر نیوز)نگراں وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان جسٹس (ر) یار محمد کی زیر صدارت نگراں کابینہ کا پہلا اجلاس منعقد ہوا اجلاس سے قبل نگراں صوبائی وزراء اور متعلقہ سیکریٹریز کا تعارفی سیشن ہوا۔ کابینہ اجلاس کے آغاز پر اسلام آباد ترلائی سانحے کے شہداء کے ایصال ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی۔اجلاس میں مختلف اہم امور زیر بحث آئے جن میں تیز رفتار سکیموں کی جانب فنڈز کی منتقلی کیلئے 60 کروڑ روپے کی منظوری مانگی گئی۔اس حوالے سے ایڈیشنل چیف سیکریٹری گلگت بلتستان اور چیف اکانومسٹ محکمہ پلاننگ نے جاری ترقیاتی منصوبوں سے متعلق تفصیلی طور پر آگاہ کیا۔کابینہ اجلاس میں ای-پروکیورمنٹ سسٹم کے نفاذ کے لیے گلگت بلتستان پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی اور وفاقی PPRA کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کی منظوری دی گئی۔ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر استور میں ریسکیو 1122، محکمہ صنعت و تجارت کے ضلعی افسر کے قیام کے لیے رہائشی و ایمرجنسی آپریشن سینٹر کے قیام اور بلائنڈ لیک شگر میں محکمہ فشریز کے لیے زمین کی منتقلی منظور کی گئی۔ ڈیٹا شیئرنگ اور ٹیکس پیڈ کلیمز کے لیے حکومت گلگت بلتستان اور سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط اور تاجروں کی بایومیٹرک تصدیق کے لیے نادرا کے ساتھ MoU پر دستخط کی منظوری دی گئی۔رجسٹریشن و صنعتی تعلقات دیگر صوبوں کی طرز پر رجسٹرار آف فرمز کے اختیارات ڈپٹی کمشنرز سے محکمہ صنعت و تجارت کو منتقل کرنا اور صنعتی تعلقات ایکٹ 2012 کے تحت رجسٹرار ٹریڈ یونین کی تقرری بھی منظور کی گئی۔ محکمہ جنگلات و وائلڈ لائف فرنٹیئر کانسٹیبلری کی مدت میں جولائی تک توسیع اور محکمہ جنگلات و وائلڈ لائف و ماحولیات اور WCDS کے درمیان MoU پر دستخط کی منظوری دی گئی۔اس موقع پر نگراں وزیر اعلیٰ جسٹس (ر) یار محمد نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہماری ترجیح گلگت بلتستان کے تمام مفاد عامہ کے منصوبوں کو بروقت اور شفاف طریقے سے مکمل کرنا ہے حکومت توانائی انفراسٹرکچر اور عوامی سہولتوں کے شعبوں میں مؤثر اقدامات اٹھا رہی ہے تاکہ ہر شہری کی زندگی بہتر بنائی جا سکے ہم ترقیاتی منصوبوں کی رفتار اور معیار دونوں کو یقینی بنائیں گے اور ہر فیصلہ عوامی مفاد کے مطابق ہوگا وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت گلگت بلتستان کی تعمیر و ترقی کے لیے پوری طرح کوشاں ہے عوام کی سہولت ملازمت کے مواقع اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی ہماری اولین ترجیح ہیں ہم شفافیت موثر منصوبہ بندی اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے عوام کے مسائل کے حل کو یقینی بنائیں گے اجلاس کے اختتام پر نگراں وزیر اعلیٰ نے کابینہ کے تمام ممبران کو ہدایت دی کہ وہ اپنے محکموں میں ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل اور عوامی خدمات کی فراہمی میں ہر ممکن تعاون کریں۔
گلگت بلتستان کی نگران حکومت کے کابینہ کے پہلے باضابطہ اجلاس کے بعد صوبائی نگران وزراء نے مشترکہ پریس کانفرنس کی، جس میں اجلاس میں کیے گئے اہم فیصلوں سے میڈیا کو آگاہ کیا گیا۔نگران وزیر داخلہ نے پریس کانفرنس میں گلگت بلتستان کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال، رمضان المبارک کے دوران حفاظتی اقدامات، قراقرم ہائی وے (کے کے ایچ) پر کنوائے سسٹم کے خاتمے اور مسافروں کو بہتر سہولیات فراہم کرنے سے متعلق تفصیلات بیان کیں۔ انہوں نے بتایا کہ حالیہ سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر چیک پوسٹس، مساجد کی سیکیورٹی اور سی سی ٹی وی کیمروں کو فعال بنانے کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں تاکہ رمضان المبارک میں امن و امان کو یقینی بنایا جا سکے۔نگران وزیر خزانہ نے بتایا کہ گلگت بلتستان کی ترقیاتی ضروریات کے پیش نظر کم از کم 47 ارب روپے سالانہ ترقیاتی پروگرام (ADP) اور 50 ارب روپے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (PSDP) کے لیے درکار ہیں۔ اگر یہ فنڈز 2026 اور 2027 کے دوران دستیاب ہو جائیں تو صوبے کے تقریباً 90 فیصد ترقیاتی منصوبے مکمل کیے جا سکتے ہیں۔پریس کانفرنس میں بتایا گیا کہ کابینہ اجلاس میں تقریباً 15 ایجنڈا آئٹمز زیرِ غور آئے، جن میں سے کئی منظور جبکہ چند اہم ایجنڈا آئٹمز مسترد کر دیے گئے۔کابینہ نے رمضان المبارک میں تھرمل جنریٹرز کے ذریعے اضافی بجلی فراہم کرنے کی تجویز مسترد کر دی۔ بتایا گیا کہ اس منصوبے پر تقریباً 22 کروڑ روپے خرچ ہونا تھے، جبکہ اس کے نتیجے میں بجلی کی فراہمی میں صرف 40 منٹ کا فرق پڑتا، جسے عوامی مفاد کے خلاف قرار دیتے ہوئے کابینہ نے مسترد کر دیا۔اسی طرح ایک پاور پراجیکٹ، جو پہلے ہی پی ایس ڈی پی سے خارج ہو چکا تھا، اس کو سیکشن فور کے تحت بحال کرنے کی تجویز بھی اس بنیاد پر مسترد کی گئی کہ نگران حکومت اس نوعیت کے پالیسی فیصلے نہیں کرنا چاہتی۔نگران وزیر برقیات انجینئر ممتاز نے کہا کہ حکومت مستقبل میں بجلی کے بحران کے خاتمے کے لیے قابلِ عمل اور طویل المدتی منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ عالم برج، چھل، سکندرآباد اور علی آباد میں گرڈ اسٹیشنز پر کام جاری ہے، جبکہ علی آباد میں عمارتیں مکمل ہو چکی ہیں۔ بونجی میں 100 میگاواٹ کے منصوبے پر بھی پیش رفت جاری ہے، جس میں 82 میگاواٹ سولر بجلی کو نیشنل گرڈ سے منسلک کیا جائے گا، جبکہ دیامر بھاشا ڈیم کی بجلی بھی اسی نظام میں شامل ہوگی۔نگران وزیر جنگلات اشرف الدین نے بتایا کہ کابینہ نے رمضان المبارک میں مساجد کے لیے فیول کی فراہمی کا فیصلہ بھی مسترد کر دیا ہے۔ ان کے مطابق اس مد میں شفافیت کے مسائل سامنے آئے تھے، جبکہ صحت اور تعلیم جیسے شعبوں میں فنڈز کی زیادہ ضرورت ہے۔کابینہ نے نادرا اور ایس ای سی پی کے ساتھ ڈیٹا شیئرنگ کے ایم او یوز کی توثیق، ریسکیو 1122 کے لیے لینڈ ایکوزیشن اور پیپرا کے ساتھ شفاف ٹینڈرنگ نظام کے لیے ایم او یو کی منظوری بھی دی۔نگران وزیر اطلاعات نے کابینہ اجلاس کے ایجنڈا، فیصلوں اور آئندہ لائحہ عمل سے متعلق تفصیلات میڈیا کے ساتھ شیئر کیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں