43

پاکستان اور ازبکستان کا 2029 تک باہمی تجارت کا حجم دو ارب ڈالر تک بڑھانے کا عزم

اعلیٰ سطح سٹریٹجک تعاون کونسل کا قیام باہمی تعلقات میں اہم سنگِ میل قرار، سہ فریقی ریلوے منصوبے کی جلد تکمیل کے لیے افغانستان سے دہشتگردی کے خاتمے پر زور ،مشترکہ اعلامیہ

اسلام آباد:پاکستان اور ازبکستان نے 2029 تک باہمی تجارت کا حجم دو ارب ڈالر تک بڑھانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے اعلیٰ سطح سٹریٹجک تعاون کونسل کے قیام کو باہمی تعلقات میں اہم سنگِ میل قرار دیا ہے ، ازبکستان۔ افغانستان۔ پاکستان ریلوے منصوبے کی جلد تکمیل کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے افغانستان پر زور دیا گیا ہے کہ وہ دہشت گردی کے خطرات سے نمٹے، افغانستان میں قائم تمام دہشت گرد تنظیموں کو ختم و تحلیل کرنے کے لیے فوری ٹھوس اقدامات کرے جو علاقائی اور عالمی سلامتی کے لیے سنگین خطرات پیدا کر رہی ہیں اور دہشت گرد تنظیموں کو کسی دوسرے ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے افغان سرزمین کے استعمال سے روکے۔
جمعے کو دفتر خارجہ سے ازبکستان کے صدر کے دورہ پاکستان کے حوالے سے جاری مشترکہ اعلامیے کے مطابق ازبکستان کے صدر شوکت مرزائیوف نے وزیراعظم محمد شہباز شریف کی دعوت پر 5 تا 6 فروری پاکستان کا سرکاری دورہ کیا جس دوران وزیراعظم محمد شہباز شریف اور صدر شوکت مرزائیوف کے درمیان دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں پر جامع اور تفصیلی مذاکرات ہوئے جن میں موجودہ دوطرفہ تعلقات کا جائزہ لیا گیا اور دونوں ممالک کے درمیان سٹریٹجک شراکت داری کو مزید مستحکم بنانے کے امکانات پر غور کیا گیا۔ فریقین نے ایک دوسرے کی خودمختاری، آزادی اور علاقائی سالمیت کی حمایت کرتے ہوئے تعاون کو ہمہ جہت طور پر فروغ دینے کے عزم کا اعادہ اور دونوں ممالک کے عوام کے طویل المدتی قومی مفادات سے ہم آہنگ پائیدار ترقی کے فروغ پر اتفاق کیا۔
دونوں رہنماؤں نے مختلف شعبوں میں تعاون کی موجودہ صورتحال اور مستقبل کے امکانات کے ساتھ ساتھ باہمی دلچسپی کے علاقائی اور عالمی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا جن میں علاقائی امن و سلامتی، کنیکٹوِٹی، تجارت، ثقافت، سیاحت، کھیل اور عوامی روابط شامل ہیں۔ دونوں رہنماؤں نے سفارتی تعلقات کے قیام کے بعد گزشتہ 34 برسوں میں قائم ہونے والے مضبوط تعاون پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات دیرینہ دوستی اور گہرے تاریخی، ثقافتی اور روحانی رشتوں کی بنا پر استوار ہیں، رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات کو مزید گہرا کرنے اور تعاون کو وسعت دینے کے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا تاکہ دونوں اقوام کے بنیادی مفادات کا تحفظ کیا جا سکے۔ دونوں رہنماؤں نے پاکستان۔ ازبکستان تعلقات میں مثبت پیش رفت اور اعلیٰ قیادت کی سطح پر بڑھتے ہوئے روابط پر اطمینان کا اظہار کیا۔انہوں نے وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف کے فروری 2025 کے دورہ ازبکستان ،جولائی 2025 میں آذربائیجان کے شہر خان کندی میں ای سی او سربراہ اجلاس کے موقع پر ہونے والی ملاقات اور باہمی رابطوں کو تازہ کرتے ہوئے ہر سطح پر باقاعدہ سیاسی مکالمے کو فروغ دینے کے عزم کا اظہار کیا۔ فریقین نے 26 فروری 2025 کو دستخط شدہ وزیراعظم پاکستان کے دورہ ازبکستان کے نتائج سے متعلق مشترکہ اعلامیے سے اپنی وابستگی کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ فیصلوں پر عملدرآمد کے لیے تیار کردہ روڈ میپ دوطرفہ تعاون کو مزید وسعت دینے کے لیے جامع فریم ورک فراہم کرتا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے فروری 2025 میں اعلیٰ سطح سٹریٹجک تعاون کونسل (ایچ ایل ایس سی سی)کے قیام کے فیصلے کو اہم سنگِ میل قرار دیا۔اس موقع پر صدر ازبکستان شوکت مرزائیوف کے دورہ پاکستان کے دوران ایچ ایل ایس سی سی کے پہلے اجلاس کا خیرمقدم کیا گیا جس میں تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے کر اہم فیصلے کیے گئے۔ دونوں رہنماؤں نے پارلیمانوں کے کردار کو سراہتے ہوئے بین الپارلیمانی تعاون کو مزید فروغ دینے کی اہمیت پر زور دیا اور اپریل 2025 میں چیئرمین سینیٹ پاکستان سید یوسف رضا گیلانی کے دورہ تاشقند اور ستمبر 2025 میں ازبک پارلیمان کے سپیکر کے دورہ اسلام آباد کے مثبت نتائج کا ذکر کیا۔ دونوں رہنماؤں نے مشترکہ بین الحکومتی کمیشن کے کردار کو سراہا اور 2 فروری 2026 کو اسلام آباد میں منعقدہ دسویں اجلاس پر اطمینان کا اظہار کیا۔
علاقائی روابط اور ترقی کے لیے کنیکٹوِٹی کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے ازبکستان۔ افغانستان۔ پاکستان ریلوے منصوبے کے فریم ورک معاہدے کا خیرمقدم کیا اور اس کی جلد تکمیل کے عزم کا اعادہ کیا۔ فریقین نے ترمذ۔ خرلاچی روٹ کی متفقہ منظوری اور فزیبلٹی سٹڈی کی مشترکہ مالی معاونت پر اتفاق کو سراہا۔ ملٹی ماڈل ٹرانسپورٹ پر مفاہمتی یادداشت کا خیرمقدم کرتے ہوئے پاکستان کی بندرگاہوں تک ازبک سامان کو رسائی دینے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
دونوں رہنماؤں نے اقتصادی تعلقات کو دوطرفہ تعلقات میں مرکزی حیثیت دیتے ہوئے 2029 تک دو ارب ڈالر تجارتی ہدف کے حصول کے عزم کا اعادہ کیا۔ صنعتی زونز کے مشترکہ انتظام اور بین العلاقائی فورم کے قیام پر اتفاق کیا گیا جبکہ پہلا علاقائی فورم 2026 میں ازبکستان میں منعقد کرنے پر اتفاق ہوا۔ پی ٹی اے کے دوسرے مرحلے، سرمایہ کاری معاہدے، ایس پی ایس اقدامات اور مشترکہ منصوبوں پر پیش رفت کو سراہا گیا۔
دونوں ممالک نے عظیم شاہراہِ ریشم کے ورثے کی بنیاد پر وسط اور جنوبی ایشیا کے درمیان ثقافتی تعاون اور اردو و ازبک زبانوں کے درمیان تعلق کے احیا اور مشترکہ ثقافتی ورثے کے ذریعے تعاون بڑھاتے ہوئے ثقافتی تہواروں، اکیڈمک تبادلوں کے ذریعے عوامی روابط بڑھانے اور اس طرح علاقائی امن، انٹلکچوئل گروتھ اور مشترکہ خوشحالی کو آگے بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ دونوں رہنمائوں نے بابری ورثے کے تحفظ و فروغ کے معاہدے کو سراہا اور اسے دونوں اقوام کے مشترکہ تاریخی ورثے کے تحفظ اور ثقافتی تعاون کے فروغ کے لئے اہم قدم قرار دیا۔
دونوں رہنمائوں نے اعلیٰ تعلیم اور تحقیق میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا اور اس سلسلے میں پاکستان اور ازبکستان کے اکیڈیمیا کے درمیان تعاون کو ادارہ جاتی شکل دینے کے عزم کا اظہار کیا۔ فریقین نے اعلیٰ تعلیم کے ایک دوسرے کے ملکوں کے تعلیمی اداروں میں بڑھتی ہوئی دلچسپی کا ذکر کرتے ہوئے اکیڈمک شراکت داری، مشترکہ تحقیق اور استعداد کار میں اضافے کے لئے اقدامات پر بھی اتفاق کیا۔
دونوں رہنمائوں نے قومی میڈیا کے اداروں کے درمیان پائیدار تعاون پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے 2022 کے براڈکاسٹنگ ایگریمنٹ، کانٹینٹ کے تبادلے اور ”مشترک دیلار” کے عنوان سے دستاویزی فلم جو موجودہ دوطرفہ تعلقات کی عکاسی کرتی ہے، کی مشترکہ تیاری پر عملدرآمد سمیت اہم اہداف کے حصول کو سراہا۔ دونوں رہنمائوں نے شاہراہ ریشم پر بین الاقوامی فلم فیسٹیول میں شرکت کے لئے تعاون بڑھانے اور میڈیا کے ذریعے تعاون کے فروغ بشمول ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (اے پی پی) اور ازبکستان ٹی وی کے درمیان دستخط شدہ ایم او یو کے تحت مشترکہ نیوز بلیٹن، صحافیوں کے تبادلوں، مربوط مواد کی تیاری پر بھی اتفاق کیا۔
دونوں رہنمائوں نے سیاحت کے شعبے میں دوطرفہ تعاون کو مضبوط بنانے کے لئے کئے گئے اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا جن میں اعلیٰ سطح سیاسی روابط کا فروغ اور تاشقند۔ اسلام آباد، تاشقند۔ لاہور کے لئے براہ راست پروازیں شامل ہیں۔ دونوں رہنمائوں نے اتفاق کیا کہ سیاحت اور ثقافت کے شعبوں میں تعاون کے مواقع بڑھائے جا سکتے ہیں۔ ٹوورازم ورکنگ گروپ جس کے ذریعے مل کر سیاحت کی تشہیر اور مارکیٹنگ کی حکمت عملی تیار کی جائے، کے ذریعے سیاحتی تعاون کو ادارہ جاتی شکل دینے پر بھی اتفاق کیا گیا۔
فریقین نے سلامتی اور دفاع کے شعبے میں باقاعدہ بات چیت جاری رکھنے اور تعمیری تعاون کو فروغ دینے کے لیے آمادگی کا اظہار کرتے ہوئے دفاعی تعاون کی موجودہ سطح پر اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے اس ضمن میں دونوں فریقوں کے درمیان حالیہ روابط کا خیرمقدم کیا جس میں سٹاف مذاکرات اور اعلیٰ سطحی تبادلے شامل ہیں، اس شعبے میں تعاون کو مزید فروغ دینے کے لیے دونوں رہنماؤں نے مشترکہ فوجی مشقوں اور تربیتی سرگرمیوں میں باہمی شرکت جاری رکھنے، پیشہ ورانہ ترقی، بہترین طریقہ کار کے تبادلے اور دونوں ممالک کے فوجی اداروں کے درمیان تعاون کے میدان میں اشتراک پر اتفاق کیا۔رہنماؤں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان تعاون کو وسعت دینے بالخصوص دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور انتہاپسندی جیسی تین بڑے مسئلوں نیز منشیات کی سمگلنگ کے خلاف جدوجہد میں تعاون بڑھانے پر آمادگی کا اظہار کیا۔ کثیرالجہتی فورمز پر قریبی ہم آہنگی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے پاکستان اور ازبکستان نے دنیا کو درپیش پیچیدہ چیلنجز سے نمٹنے میں اقوام متحدہ اور اس کے اداروں کے مرکزی کردار کو اجاگر کیا۔فریقین نے اقوام متحدہ کے منشور اور اس کے مقاصد و اصولوں سے اپنی وابستگی کی توثیق کی۔ انہوں نے کثیرالجہتی فورمز پر ایک دوسرے کے اقدامات پر مثبت غور کرنے کا عہد کیا۔ فریقین نے بین الاقوامی قانون اور معاہدات کے اْن اصولوں کے احترام اور پاسداری کی ضرورت پر زور دیا جن کے ذریعے سرحد پار دریاؤں کے آبی وسائل کا معقول، مؤثر اور پائیدار استعمال ہوتا ہے۔ جمہوریہ ازبکستان نے 2025ـ2026 کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے غیر مستقل رکن کی حیثیت سے امن و سلامتی کے فروغ میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کی مفید خدمات کو سراہا اور جون 2025 میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی پاکستان کی کامیاب صدارت پر مبارکباد دی۔
وزیر اعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے 2025 میں ثمرقند میں یونیسکو کی جنرل کانفرنس کے 43 ویں اجلاس کی کامیاب میزبانی پر صدر ازبکستان شوکت مرزائیوف کو مبارکباد دی اور ثقافتی مکالمے اور بین الاقوامی تعاون کے فروغ کے لیے اس کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ جمہوریہ ازبکستان نے 2026ـ2027 کے لیے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے چیئرمین کی حیثیت سے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے کردار کی بھرپور حمایت کا اظہار کیا۔ جمہوریہ ازبکستان نے 2025ـ2026 کی مدت کے لیے ایس سی او کے ریجنل اینٹی ٹیررسٹ سٹرکچر (آر اے ٹی ایس) اور 2026ـ2027 کی مدت کے لیے اقتصادی تعاون تنظیم (ای سی او) کی چیئرمین شپ سنبھالنے پر اسلامی جمہوریہ پاکستان کو مبارکباد دی۔ دونوں فریقوں نے پاکستان کی چیئرمین شپ کے دوران قریبی ہم آہنگی کے عزم کا اعادہ کیا تاکہ دونوں تنظیموں کے اہم کام کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔فریقین نے بین الاقوامی تنظیموں بالخصوص اقوام متحدہ میں مختلف عہدوں کے لیے ایک دوسرے کی آئندہ نامزدگیوں پر سازگار غور کرنے پر اتفاق کیا۔ پاکستانی فریق نے عالمی تجارتی تنظیم (ڈبلیو ٹی او) میں ازبکستان کی شمولیت سے متعلق ورکنگ گروپس کے اجلاسوں میں اپنی باقاعدہ شرکت اور تنظیم میں ازبکستان کی جلد شمولیت کے لیے اپنی حمایت کا ذکر کیا۔ دونوں رہنماؤں نے اپنے اپنے علاقائی حالات پر بھی تبادلہ خیال کیا جن میں ان کے بنیادی خدشات اور باہمی دلچسپی کے امور شامل ہیں۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ اقوام متحدہ کے منشور، جنرل اسمبلی اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق مسلسل مکالمہ اور پْرامن روابط دیرینہ مسائل اور تنازعات کے حل، اور جنوبی و وسطی ایشیا میں امن، استحکام اور خوشحالی کے فروغ کے لیے ناگزیر ہیں۔
افغانستان میں امن و استحکام کی اہمیت کو خطے میں پائیدار امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے عمومی طور پر اور بالخصوص یو اے پی ریلوے منصوبے کے کامیاب نفاذ کے لیے کلیدی قرار دیتے ہوئے دونوں رہنماؤں نے افغانستان پر زور دیا کہ وہ دہشت گردی کے خطرات سے نمٹے، افغانستان میں قائم تمام دہشت گرد تنظیموں کو ختم و تحلیل کرنے کے لیے فوری اور ٹھوس اقدامات کرے جو علاقائی اور عالمی سلامتی کے لیے سنگین خطرات پیدا کر رہی ہیں اس کے ساتھ ساتھ دہشت گرد تنظیموں کو کسی دوسرے ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے افغان سرزمین کے استعمال سے روکا جائے۔ازبکستان اور پاکستان نے دنیا بھر میں امن، استحکام اور تنازعات کے منصفانہ حل کے فروغ میں اپنے تعمیری کردار کی اہمیت کی توثیق کی۔ دونوں فریقوں نے فلسطینی عوام کی حقِ خود ارادیت کی منصفانہ جدوجہد اور 1967 سے پہلے کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک آزاد، خودمختار اور متصل فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے اپنی حمایت کا اظہار کیا۔ دونوں فریقوں نے اس امر پر زور دیا کہ دورے کے دوران ہونے والی بات چیت اور دستخط شدہ دوطرفہ دستاویزات اسلامی جمہوریہ پاکستان اور جمہوریہ ازبکستان کے درمیان سٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے میں معاون ثابت ہوں گی۔ازبکستان کے صدر شوکت مرزائیوف نے اسلام آباد کے دورے کے دوران وزیر اعظم پاکستان محمد شہباز شریف اور پاکستان کے عوام کی جانب سے پرتپاک مہمان نوازی پر شکریہ ادا کیا۔ صدر شوکت مرزائیوف نے جامع تعاون کو مزید فروغ دینے کے لیے وزیر اعظم محمد شہباز شریف کو مناسب وقت پر ازبکستان کا دورہ کرنے کی دعوت دی جو انہوں نے قبول کر لی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں