31

غذر کو اینٹی اسٹیٹ کہنا قابلِ مذمت ہے، مومن جان

مومن جان کی سیاستدانوں سے غذر کے بارے میں اینٹی اسٹیٹ لفظ کے استعمال سے گریز کی اپیل
غذر کی قربانیاں ناقابلِ فراموش، ہر دس قدم پر شہید کا جھنڈا لہراتا ہے،نشانِ حیدر لالک جان سمیت معرکۂ کارگل تک لازوال کردار،حقوق کی بات غداری نہیں، غذر کے عوام سو فیصد محبِ وطن ہیں

گلگت (پ ر)پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما و سابقہ صوبائی سیکریٹری مومن جان نے حافظ حفیظ الرحمن کی غذر میں ریاست مخالف عناصر کے حوالے سے دیا گیا بیان کے رد عمل میں کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے سیاستدانوں سے اپیل ہے کہ وہ غذر کے بارے میں بات کرتے ہوئےاینٹی اسٹیٹ لفظ کا استعمال سے گریز کریں۔ چونکہ غذر کی سرزمین نے جو قربانیاں دی ہیں اس کی مثال دنیا میں نہیں ملتی ہے۔اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ آپ کو غذر میں ہر دس قدم پہ ایک شہید کا جھنڈا لہراتا ہوا نظر آتا۔1947 کے جنگ سے لیکر 1999 کے معرکہ کا رگل تک جو قربانیاں اور تمغے غزر کے شہیدوں نے حاصل کیے ہیں اس کی بھی مثال دنیا میں کہیں بھی نہیں ملتی۔پاکستان کا سب سے بڑا تغمہ نشانہ حیدر بھی سرزمین غزر کے فرزند لالک جان نے حاصل کیا، چنارباغ کے شہداءکے منار کا ملاحظہ کریں تو غزر کے شہداء کا اندازہ ہوتا ہے ۔مملکت خداداد پاکستان کے تعمیر ترقی میں غزر کے بہادر لوگوں کا ہاتھ رہا ہے اور آیندہ بھی رہیگا۔غزر کے عوام انتہائی سادہ اور ملک کے وفادار ہوئے کے باوجود غزر کے لوگوں کو آنٹی اسٹیٹ کہنا انتہائی اذیت ناک عمل ہے۔چند ایک گنے چونے افراد کی وجہ سے غدار لفظ استعمال کرنا بھی انتہائی تکلیف دہ ہے۔ اور غزر کے ان چند شخصیات نے بھی کبھی بھی مملکت خداداد پاکستان کے خلاف کوئی غلط بات نہیں کیا ہے۔حقوق کی بات کر تے ہیں تو یہ غداری یا آنٹی اسٹیٹ کے زمرے میں نہیں آتے ہے۔خدا را پاکستان بنانے والوں اور سنبھالنے والوں کو ایسے القابات دینے سے اجتناب کریں۔غزر والوں نے ہمیشہ امن و آشتی اور مہر و محبت کے پھول نچھاور کرتے رہیں ھیں۔ہمیشہ بین المذہبئ ھم آہنگی اور ملک میں امن عامہ برقرار رکھنے کی بات کرتے رہیں ہیں۔ غزر کے غیور عوام کو احترام کے ساتھ یاد کریں ۔چونکہ غزر کے عوام %100 پاکستان کے وفادار ہیں. پاکستان زندہ باد

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں