ہنزہ، نگر اور غذر کے عوام کو اینٹی اسٹیٹ قرار دینا ناقابل قبول,عوام سے معافی نہ مانگنے پر سیاسی نقصان کا خدشہ..
ہنزہ، نگر اور غذر کے عوام کو اینٹی اسٹیٹ قرار دینا نہ صرف ان اضلاع کے عوام بلکہ شہدائے گلگت بلتستان کی قربانیوں کی توہین ہے، ایمان شاہ
گلگت (نامہ نگار) سابق مشیر اطلاعات ایمان شاہ کی عمائدین ہنزہ کے ہمراہ پریس کانفرنس، سابق وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن سے معافی کا مطالبہ، سابق مشیر برائے اطلاعات گلگت بلتستان ایمان شاہ نے عمائدین ہنزہ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ (ن) گلگت بلتستان کے صوبائی صدر و سابق وزیر اعلیٰ حافظ حفیظ الرحمن کے حالیہ شمولیتی پروگرام میں دیے گئے بیان پر سخت ردعمل دیا۔ایمان شاہ کا کہنا تھا کہ ہنزہ، نگر اور غذر کے عوام کو اینٹی اسٹیٹ قرار دینا نہ صرف ان اضلاع کے عوام بلکہ شہدائے گلگت بلتستان کی قربانیوں کی توہین ہے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام بالخصوص ہنزہ، نگر اور غذر کے لوگ محب وطن، باشعور اور ریاست پاکستان کے وفادار ہیں، جنہوں نے ڈوگرہ راج کے خاتمے سے لے کر 1947، 1965، 1971 کی جنگوں، کارگل وار اور دیگر قومی مواقع پر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔انہوں نے کہا کہ اینٹی اسٹیٹ اس فرد یا گروہ کو کہا جاتا ہے جو ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھائے یا ریاستی اداروں کے خلاف کارروائی کرے، جبکہ گلگت بلتستان کے عوام ہمیشہ ملک و قوم کے دفاع میں پیش پیش رہے ہیں۔ ایسے میں انہیں ریاست مخالف قرار دینا سمجھ سے بالاتر ہے۔ایمان شاہ نے کہا کہ اگر حافظ حفیظ الرحمن بروقت عوام سے معافی مانگ لیتے تو معاملہ اس حد تک نہ بڑھتا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ اپنے بیان کی ذمہ داری قبول کرنے کے بجائے اے آئی کا حوالہ دینا عوامی تشویش میں اضافے کا سبب بنا۔ ان کے مطابق پارٹی قیادت کو وضاحتی بیانات جاری کرنے کے بجائے کھلے عام عوام سے معافی مانگنی چاہیے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ گلگت، ہنزہ اور غذر کے تینوں حلقوں میں مسلم لیگ (ن) کو شدید سیاسی نقصان پہنچا ہے اور اس کا جواب عوام آئندہ انتخابات 2026 میں دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب مسلم لیگ (ن) کے لیے نہ صرف نشستیں جیتنا بلکہ حکومت بنانا بھی مشکل ہوچکا ہے۔پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے حالیہ سیاسی شمولیتوں کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ہنزہ سے کامل جان اور غذر سے ظفر شادم خیل کی شمولیت پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ شادم خیل آخری میٹنگ تک ان کے ساتھ تھے اور انہوں نے علیحدگی کے حوالے سے قیادت کو اعتماد میں نہیں لیا۔ انہوں نے اس صورتحال کو “سر منڈاتے ہی اولے پڑ گئے” سے تعبیر کیا۔ایمان شاہ نے کہا، “میں بھی قوم پرست ہوں لیکن میرا انداز الگ ہے۔” انہوں نے سوشل میڈیا پر جاری مہم کے حوالے سے عوام سے اپیل کی کہ شائستگی کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں، گالم گلوچ اور ذاتی حملوں سے گریز کریں اور سیاسی اختلاف کو مہذب انداز میں آگے بڑھائیں۔پریس کانفرنس میں عمائدین ہنزہ نے بھی مطالبہ کیا کہ حافظ حفیظ الرحمن عوامی دل آزاری پر باقاعدہ معافی مانگیں تاکہ پیدا ہونے والی کشیدگی کا خاتمہ ہو.






